8 جولائی، 2026، 7:13 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کو تنہا کرنے کی امریکی و اسرائیلی پالیسی ناکام، خطے میں نئے سکیورٹی نظام کی بنیاد پڑنے لگی

ایران کو تنہا کرنے کی امریکی و اسرائیلی پالیسی ناکام، خطے میں نئے سکیورٹی نظام کی بنیاد پڑنے لگی

حالیہ جنگ کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ ایران کو محدود کرنے کی حکمت عملی اپنے تمام بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری 2026 میں ایران کے خلاف شروع کی گئی حالیہ جنگ نہ صرف اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس نے مغربی ایشیا کے سکیورٹی نظام کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ جنگ کے منصوبہ سازوں کی توقع تھی کہ عرب ممالک اسرائیل کے مزید قریب آئیں گے اور ایران کے خلاف ایک مضبوط علاقائی اتحاد تشکیل پائے گا، لیکن زمینی حقائق اور بعد کی سفارتی پیش رفت نے اس کے برعکس تصویر پیش کی۔ خلیج فارس کے عرب ممالک اسرائیل کے قریب آنے کے بجائے اس نتیجے پر پہنچے کہ پائیدار امن اور سلامتی ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے نہیں بلکہ باہمی بقائے باہمی اور مقابلے کے منظم انتظام سے حاصل ہو سکتی ہے، اسی لیے اب وہ ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ایران کو تنہا کرنے اور محدود کرنے کی ناکام حکمت عملی

امریکہ کئی دہائیوں سے اقتصادی، عسکری اور سفارتی دباؤ کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے اور عالمی سطح پر تنہا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا، تاہم یہ حکمت عملی نہ تو ایران کے رویے میں بنیادی تبدیلی لاسکی اور نہ ہی اسلامی جمہوری ایران کو کمزور کرسکی، بلکہ اس کے نتیجے میں خطے میں مزید بحران پیدا ہوئے۔

حالیہ جنگ اور اس کے بعد رونما ہونے والی پیش رفت نے واضح کر دیا کہ اسرائیل کے ساتھ اتحاد اور عرب ممالک کے مفادات کو پس پشت ڈال کر ایران کو محدود کرنے کی حکمت عملی ایک نمایاں اسٹریٹجک ناکامی ثابت ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت کو ختم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی جنگ کے نتائج برعکس ہوئے۔ ایران نے نہ صرف آبنائے ہرمز پر اپنا مؤثر کنٹرول برقرار رکھا بلکہ خود کو ایک فیصلہ کن علاقائی طاقت کے طور پر بھی منوایا اور طاقت کا توازن اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا۔ جنگ کے محرکین اپنے چاروں بنیادی اہداف، یعنی ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، محورِ مزاحمت کی حمایت روکنا، بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرنا اور ایران میں نظام کی تبدیلی، کسی میں بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

عرب ممالک کی امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں سے دوری

حالیہ جنگ کا ایک اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ عرب ممالک نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعاون پر نظرثانی شروع کر دی۔ ان ممالک نے محسوس کیا کہ اسرائیل کی جنگی پالیسیوں کا ساتھ دینے سے ان کی سلامتی مضبوط ہونے کے بجائے وہ خود ایران کے براہ راست حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ جنگ کے دوران ایران کے میزائل حملوں کا نشانہ بننے والا قطر اب ایک فعال ثالث کے طور پر ایسے جامع علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام پر زور دے رہا ہے جس میں ایران کو بھی واضح اور مؤثر کردار حاصل ہو۔

عرب ممالک اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول پر آنے والی پالیسی سلامتی فراہم کرنے کے بجائے انہیں ممکنہ اہداف میں تبدیل کر رہی ہے۔ یہ سوچ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں زیادہ مضبوط ہوئی، جنہوں نے علاقائی کشیدگی کے اثرات کو براہ راست محسوس کیا۔ اسی بنا پر دونوں ممالک اب واشنگٹن سے نسبتاً آزاد خارجہ و سکیورٹی پالیسی اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔  سعودی عرب، جو پہلے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے اور اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا خواہاں تھا، اب خطے کے نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

محاذ آرائی کے بجائے بقائے باہمی اور تعاون کی بڑھتی سوچ

ایران کو تنہا کرنے کی پالیسی کی ناکامی نے مغربی ایشیا کو ایک ایسے نئے سکیورٹی ماڈل کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں مہار کے بجائے بقائے باہمی اور مقابلے کے مؤثر انتظام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بغداد کے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک کو ایک ایسا نیا سکیورٹی نظام تشکیل دینا چاہیے جس کی بنیاد باہمی تعاون پر ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف اسی صورت میں پائیدار استحکام ممکن ہے جب مشرق وسطی کے ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالیں۔ اسی مؤقف کا اظہار ایران کے صدر نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران بھی کیا تھا، جو نئے علاقائی سکیورٹی نظام میں ایران کے فعال کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔

عرب ممالک کی نئی حکمت عملی

حالیہ جنگ کے بعد عرب ممالک کی پالیسی میں تبدیلی تین نمایاں شعبوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پہلا، کثیرالجہتی سفارت کاری، جس کے تحت قطر اور عمان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے فعال ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوسرا، اقتصادی تعاون، جہاں عرب ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران کے ساتھ باہمی اقتصادی وابستگی اور مشترکہ توانائی و ٹرانزٹ منصوبے فوجی محاذ آرائی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں اعتماد سازی اور علاقائی سلامتی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

تیسرا، اسٹریٹجک خودمختاری، جس کے تحت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اپنے سکیورٹی شراکت داروں میں تنوع پیدا کر رہے ہیں اور اب مکمل طور پر امریکی سکیورٹی چھتری پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے مطابق آزادانہ فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نئے علاقائی سکیورٹی نظام کے خدوخال

ایران کی علاقائی حیثیت مستحکم ہونے اور اس حقیقت کو تسلیم کیے جانے کے بعد کہ پائیدار سلامتی محاذ آرائی کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی، علاقائی مذاکرات اور جامع سکیورٹی نظام کی تشکیل کی کوششوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن اب مہار کی پالیسی سے نکل کر مسابقت کے نظم و نسق اور بقائے باہمی کے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ایران کو ایک فیصلہ کن علاقائی طاقت کے طور پر قبول کیا جائے گا اور وہ سکیورٹی معاملات میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

تاہم اس نئے سکیورٹی ڈھانچے کو متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہوگا۔ عرب ممالک اب بھی ایران کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر مکمل اتفاق رائے نہیں رکھتے۔ متحدہ عرب امارات، جس نے ایران کی جانب سے سب سے زیادہ حملوں کا سامنا کیا، نسبتاً محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کا جھکاؤ امریکہ اور اسرائیل کی طرف زیادہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ عمان نے زیادہ مفاہمتی پالیسی اپنائی ہے۔ اس کے باوجود مجموعی رجحان علاقائی ہم آہنگی اور جامع سکیورٹی نظام کی تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

دوسرا بڑا چیلنج ایران اور عرب ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ کئی دہائیوں کی کشیدگی اور بداعتمادی کے بعد سکیورٹی معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے شفاف اور قابل تصدیق نظام تشکیل دینا ایک طویل عمل ہوگا، جس کے لیے تمام فریقوں کی مضبوط سیاسی خواہش ناگزیر ہوگی۔

تیسرا اہم مسئلہ خطے سے باہر کی بڑی طاقتوں، بالخصوص امریکہ اور چین، کے کردار سے متعلق ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے کی سلامتی کے ضامن کے طور پر اپنا روایتی کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب بیجنگ خطے میں اپنے اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان دونوں طاقتوں کے ساتھ علاقائی ممالک کے تعلقات کی نوعیت نئے سکیورٹی نظام کی کامیابی یا ناکامی پر براہِ راست اثر انداز ہوگی۔

حاصل سخن

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کرنے اور اس کے خلاف علاقائی اتحاد کو مضبوط بنانے کے بجائے ایران کو محدود اور تنہا کرنے کی حکمت عملی کی اسٹریٹجک ناکامی پر منتج ہوئی۔ اس پیش رفت نے مغربی ایشیا میں ایک ایسے نئے سکیورٹی نظام کی راہ ہموار کی ہے جو خطے کی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں، علاقائی تعاون اور مسابقت کے مؤثر نظم و نسق پر مبنی ہوگا۔ سعودی عرب اور قطر کی قیادت میں عرب ممالک اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ پائیدار سلامتی ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ تہران کو ایک جامع علاقائی سکیورٹی ڈھانچے میں شریک کرنا ہی زیادہ مؤثر راستہ ہے۔

اس بنیادی تبدیلی کا تہران نے بھی خیر مقدم کیا ہے اور یہ پیش رفت علاقائی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جہاں ماضی کی دو قطبی سیاست کی جگہ بقائے باہمی، مذاکرات اور اجتماعی سلامتی کے لیے باہمی تعاون پر مبنی نظام فروغ پائے گا۔ تاہم اس نئے نظام کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ تمام علاقائی فریق صفر جمع صفر کی سوچ ترک کرتے ہوئے باہمی فائدے اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کو اپنانے کے لیے حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔ آنے والا وقت ہی یہ طے کرے گا کہ آیا خطے کے ممالک اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک منصفانہ اور پائیدار نظام قائم کر پائیں گے یا بیرونی طاقتوں کے مفادات ایک بار پھر اس موقع کو ضائع کر دیں گے۔

News ID 1940195

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha